Monday May ۲۰, ۲۰۱۹

یہ چیز ملکی مفاد میں نہیں تھی اس لیے استعفیٰ دیا، سابق گورنر سٹیٹ بینک

کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5مئی2019ء) سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ جن سے گزشتہ روز گورنر سٹیٹ بینک کا عہدہ واپس لیا گیا ہے، انہوں نے ایک انٹر ویو کے دوران کہا ہے کہ انہیں ان کی مدت پوری ہونے سے پہلے عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور وہ چاہتے تو عدالت جا سکتے تھے لیکن اس سے ملکی مفادات کا نقصان ہوتا۔ نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے جب ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے قبل از وقت استعفیٰ کیوں دیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی نوکری سے زیادہ ملکی مفاد ات عزیز ہیں اس لیے انہوں نے عدالت کی بجائے استعفے کو ترجیح دی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سوموار کو سٹیٹ بینک جائیں گے اور استعفیٰ دی کر واپس آجائیں گے۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ اور چیئرمین فیڈل بورڈ آف ریونیو جہانزیب خان ہ کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اس حوالےس ے ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو جہانزیب خان اور گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان طارق باجوہ کو عہدوں سے ہٹانے کا اصولی فیصلہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے دور میں ہو گیا تھا تاہم آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج ریونیو معاملات اور اقتصادی صورتحال کو درپیش چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ سے مشاورت کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر یہ بڑا قدم اُٹھایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت دونوں اداروں کے سربراہاں کی کارکردگی سے شدید نالاں تھی۔ ذرائع کے مطابق حکومت دونوں اداروں کے سربراہان کی تبدیلی کا فیصلہ پہلے ہی کر چکی تھی۔ تاہم اس فیصلے پر عملدرآمد گذشتہ روز کیا گیا جس کے تحت گذشتہ روز وفاقی حکومت نے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور چئیرمین ایف بی آر محمد جہانزیب کو فوری عہدے چھوڑنے کا حکم دیا تھا ۔

About The Author

Related posts