ہفتہ 20 جولائی 2019

روزےکےدوران ہماراجسمانی ردعمل کیاہوتاہےاس بارےمیں کچھ دلچسپ حقائق!

پہلے دو روزے

پہلےہی دن بلڈشگرلیول گرتاہےیعنی خون سےچینی کے مضراثرات کادرجہ کم ہوجاتاہے، دھڑکن سست ہوجاتی ہے اور بلڈپریشرکم ہوجاتا۔اعصاب جمع شدہ گلائی کوجن کو آزادکر دیتے ہیں جس کی وجہ سے جسمانی کمزوری کااحساس اجاگر ہوجاتا ہے۔ زہریلےمادوں کی صفائی کے پہلےمرحلہ میں نتیجتا سردرد۔ چکرآنا۔ منہ کابدبودار ہونا اورزبان پرموادکا جمع ہونا ہے۔

تیسرےسے7ویں روزے تک

جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوتی ہےاورپہلےمرحلہ میں گلوکوزمیں تبدیل ہوجاتی ہے۔ بعض لوگوں کی جلدملائم اور چکنی ہوجاتی ہے۔جسم بھوک کا عادی ہوناشروع کرتاہےاور اس طرح سال بھر مصرف رہنےوالا نظام ہاضمہ رخصت مناتاہے جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔خون کےسفید جرثومے اور قوت مدافعت میں اضافہ شروع ہوجاتا ہے۔ ہوسکتا ہے روزہ دار کے پھیپھڑوں میں معمولی تکلیف ہو اس لئےکہ زہریلے مادوں کی صفائی کاعمل شروع ہوچکا ہے۔ انتڑیوں اورکولون کی مرمت کاکام شروع ہوجاتاہے۔ انتڑیوں کی دیواروں پرجمع مواد ڈھیلا ہوناشروع ہوجاتاہے۔

8ویں سے15ویں روزے تک

آپ پہلےسےتوانامحسوس کرتے ہیں۔ دماغی طورپرچست اور ہلکا محسوس کرتےہیں۔ہوسکتا ہے پرانی چوٹ اور زخم محسوس ہوناشروع ہوں۔ اسلئےکہ اب آپکا جسم اپنا دفاع کیلئے پہلےسے زیادہ فعال اور مضبوط ہوچکا ہے۔ جسم اپنے مردہ یاکینسرشدہ سیلز کوکھانا شروع کردیتاہےجنہیں عمومی حالات میں کیموتھراپی کےساتھ مارنےکی کوشش کیجاتی ہے۔ اسی وجہ سےخلیات سے پرانی تکالیف اور دردکا احساس نسبتا بڑھ جاتاہے۔اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کاقدرتی نتیجہ ہوتاہے۔ یہ قوت مدافعت کےجاری عمل کی نشانی ہے۔روزانہ نمک کےغرارے اعصابی تناؤکابہترین علاج ہے ۔

16ویں سے 30ویں روزے تک

جسم پوری طرح بھوک پیاس برداشت کاعادی ہوچکا ہے۔ آپ خودکوچست۔چاق و چوبند محسوس کرتےہیں۔ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہوجاتی ہے۔سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے۔ جسم کے سارے زہریلےمادوں کاخاتمہ ہو چکاہے۔نظام ہاضمہ کی مرمت ہوچکی ہے،جسم سےفالتوچربی اورفاسد مادوں کااخراج ہوچکاہے۔بدن اپنی پوری طاقت کےساتھ اپنے فرائض اداکرناشروع کردیتاہے ۔ 20ویں روزے کےبعد دماغ اور یادداشت تیز ہوجاتےہیں۔ توجہ اورسوچ کو مرکوز کرنےکی صلاحیت بڑھ جاتی ہے،بلاشبہ بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کوبھرپورانداز سےاداکرنے کےقابل ہوجاتاہے۔یہ تو ہوا دنیاوی فائدہ! جوبیشک اللہ نے ہماری ہی بھلائی کیلئےہم پرفرض کیا۔ مگر دیکھئے رحمت الہی کاانداز کریمانہ کہ اسکے احکام ماننےسے دنیاکےساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنےکابہترین بندوبست کردیا ۔
تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

About The Author

Related posts