ہفتہ 20 جولائی 2019

ججوں کیخلاف ریفرنسز :آئینی کر دار ادا کررہے ہیں : فردوس عاشق

ججوں کیخلاف ریفرنسز :آئینی کر دار ادا کررہے ہیں : فردوس عاشق

لاہور: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل ہی شکایت سنے گی اور وہی فیصلہ کرے گی۔ عمران خان بار بار کہتے ہیں دو نہیں ایک قانون سب کیلئے ، ہم نہ کسی کو ڈکٹیٹ کر رہے ہیں نہ آئینی حدود سے باہر جا رہے ہیں۔ پچھلی حکومتیں نے مسائل کارپٹ کے نیچے دبا دبا کر کینسر بنا دیئے ، حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے پر اپنا آئینی کردار ادا کررہی ہے فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے ، فواد چودھری نوبال پر چھکے مار رہے ہیں ۔لاہور پریس کلب کے زیر اہتمام میٹ دی پریس پروگرام میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کوئی ادارہ اور شخصیت قانون سے بالا تر نہیں، جسٹس فائز عیسیٰ کا معاملہ انھیں کے ادارے کے حوالے کیا ہے اس پر حکومت صرف اپنا آئینی کردار ادا کر رہی ہے ،وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ انکی خواہش تھی کہ دیگر پردیسیوں کی طرح شہباز شریف بھی ملک میں اس عوام کے ساتھ عید مناتے جس کے غم میں وہ گھلے جارہے ہیں،

اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین پر بھی برس پڑیں اور کہا کہ عید کے چاند کی زیادہ تیاری تو مفتی منیب الرحمان کی ہوتی ہے ،خیبر پختونخوا میں دو عیدیں ہوتی تھیں ، پہلی بار اب وہاں ایک عید ہوئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سب وزیراعظم عمران خان کے کھلاڑی ہیں، ہم نے عمران خان کے راستے میں کانٹے نہیں بکھیرنے ، عمران خان تصادم پر یقین نہیں رکھتے ۔مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ لاہور سے جو سوچ ابھرتی ہے پورے ملک میں پھیلتی ہے ، پچھلے دس سال ہم تخت لاہور کے قیدی رہے ، ہمیں دیوار سے لگا یا گیا ترقی کا سفر چند شہروں تک محدود کرکے باقی پنجاب کو محروم کیا گیا۔مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ووٹ کی عزت کیسے ہوتی ہے ،ووٹ کی عزت جو جیت جائے اس کے ساتھ منسلک ہوتی ہے ، جہاں آپ جیت جائیں وہاں شکست تسلیم کرنا ہی ووٹ کی عزت ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عبوری ویج بورڈ عید کے بعد نوٹیفائی ہونے جا رہا ہے ۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عید کے بعد نئی میڈیا پالیسی تمام پریس کلبز کو بھیج رہے ہیں، پریس کلبز کی گرانٹس بحال کرنے جا رہے ہیں، منسٹری انفارمیشن ریفارمز کی طرف بڑھ رہی ہے ، عمران خان کانظریہ ہے ” پبلک ریلیف پروگرام ” ، اگر کوئی شخص اس میں رکاوٹ بنے گا تو اسے اس عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں مثبت اور منفی پہلو ملکی ترقی پر ضرور ا ثر انداز ہوتے ہیں۔ سیاست میں مخالفت کا عنصر بہتری کی علامت سمجھتی ہوں۔ ہم جمہوری سوچ والے ہیں۔ پتہ ہے کہ ووٹ کی عزت کیا ہوتی ہے ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عمران خان کوعوامی شعور اجاگر کرنے کا کریڈٹ جاتا ہے ۔ ہم بھی انسان ہیں ، کوتاہیاں ہم سے بھی ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ فواد میرا بھائی ہے وہ نو بال پر چھکے مارتا ہے ، فواد چودھری کو سمجھائیں گے کہ کریز کے اندر کھیلے ، کریز سے باہر نکل کر چھکے نہ مارے ،اگلے سال کوشش ہو گی پورے ملک میں ایک عید ہو، سائنس اور ٹیکنالوجی سے بھی مدد لی جائے گی۔ رویت ہلال کمیٹی کی از سرنو تشکیل کی ضرورت ہے ۔ رویت ہلال کمیٹی کو خیبرپختونخواسے آنیوالی شہادتوں کو بھی دیکھنا چاہیے ۔ ٹویٹر پیغام میں فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بے کس اور بے بس قیدیوں کے جرمانے ادا کرا کر 820 خاندانوں کو عید کا تحفہ دیا ہے ، وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر قیدیوں کی رہائی حکومتی احساس میں تبدیلی کی علامت ہے ۔

About The Author

Related posts