جمعرات 27 جون 2019

آسٹریلوی شکست کے لیے آئی پی ایل کو ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جارہا ہے؟

آسٹریلوی شکست کے لیے آئی پی ایل کو ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جارہا ہے؟

لاہور(ویب ڈیسک) ورلڈ کپ میں اب تک 14 میچ کھیلے جاچکے ہیں اور ان 14 میچوں میں سے پاکستان بمقابلہ انگلینڈ وہ واحد میچ ہے جو سنسنی خیزی کی تعریف پر پورا اترا ہے، ورنہ تو ہر میچ بغیر دلچسپی لیے ختم ہوگیا۔

گزشتہ روز بھارت اور آسٹریلیا کا اہم میچ لندن کے تاریخی میدان اوول میں کھیلا گیا۔ دونوں ٹیموں کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد قوی امید تھی کہ یہ بہت ٹکر کا میچ ہوگا، لیکن آسٹریلوی ٹیم نے اپنی ناقص کارکردگی کے ذریعے سب کو غلط ثابت کردیا۔

کل بھارت نے آسٹریلیا کو بالکل ویسے ہی شکست دی، جیسے آسٹریلوی ٹیم گزشتہ کئی سالوں سے باقی ٹیموں کو دے رہی تھی۔ یعنی صرف میچ نہیں ہرایا، بلکہ پہلے ڈرایا، دھمکایا، خوفزدہ کیا اور پھر میچ ہرایا، وہ بھی مکمل گرفت کے ساتھ۔ بھارتی اوپنرز نے ٹیم کو 127 رنز کا زبردست آغاز فراہم کیا ویرات کوہلی نے ایک مرتبہ پھر ذمہ دارانہ اننگ کھیلی

میچ کی پہلی گیند سے آخری گیند تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا جب میچ میں آسٹریلوی ٹیم کی گرفت مضبوط ہوئی ہو۔ بھارتی ٹیم کی اس شاندار کارکردگی کا سہرا کپتان کی کپتانی، بیٹسمین، باؤلرز اور فیلڈرز سب کو ہی جاتا ہے۔

بھارتی ٹیم کا جائزہ

سب سے پہلے بیٹسمنوں کی بات کرتے ہیں۔ اگر شروع کے 7 اوورز کی بات کی جائے تو 3.14 اوسط سے صرف 22 رنز بنائے گئے تھے اور بھارت کے ٹریک ریکارڈ کی روشنی میں یہ آغاز کچھ سست محسوس ہوا تھا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے جس طرح رفتار میں اضافہ ہوا، یہ یقینی طور پر کمال تھا۔

مزید پڑھیے: کیا آسٹریلین باؤلر نے بال ٹمپرنگ کی؟ ویڈیو پر تنازع کھڑا ہوگیا

بھارت کی پہلی وکٹ 23ویں اوور میں 127 رنز پر جبکہ دوسری وکٹ 37ویں اوور میں 220 رنز پر گری۔ یہاں تک اگرچہ بھارت کے پاس وکٹیں تھیں، مگر خیال تھا کہ اگر آسٹریلوی باؤلرز طریقے سے باؤلنگ کریں تو بھارت کو 300 یا 310 رنز تک روکا جاسکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو میچ بہت حد تک دلچسپ ہوسکتا ہے۔

مگر بھارتی بیٹسمنوں نے آخری 13 اوورز میں 132 رنز بناکر ایسے کسی بھی امکان کو کہیں دُور، بہت دُور پھینک دیا۔

یہاں بھارتی پلاننگ کو داد دینی ہوگی۔ انہوں نے پلان کے عین مطابق اسپنر ایڈم زمپا اور میڈیم پیسر مارکس اسٹوئنس کو بھرپور نشانہ بنایا اور ان دونوں کے 13 اوورز میں 112 رنز بنائے، جو بہت اہم ثابت ہوئے۔

اسی طرح باؤلنگ اور فیلڈنگ کے شعبے میں بھی جو کچھ ہوا وہ دیکھنے کے لائق تھا۔ 353 رنز کا بڑا ہدف دینے کے باوجود بھارتی باؤلرز یا فیلڈرز میچ کے کسی ایک لمحے میں بھی سست نظر نہیں آئے، نہ ان کی توجہ میچ سے ہٹی، اور آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ کا اہم ترین رن آوٹ اس کی بہترین مثال ہے.

پوری اننگ میں یہ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ باؤلرز وہیں بال کررہے ہیں جہاں کپتان نے فیلڈر کھڑے کیے ہیں یا کپتان نے فیلڈر وہیں کھڑے کیے ہیں جہاں باؤلرز گیند کررہے ہیں۔

About The Author

Related posts