جمعرات 27 جون 2019

حمزہ شہباز کو نیب نے گرفتار کرلیا

حمزہ شہباز کو نیب نے گرفتار کرلیا


اسلام آباد: قومی احتساب بیورو لاہور نے ن لیگی رہنما حمزہ شہباز کو حراست میں لے لیا۔ قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔

اپوزیشن پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو قومی احتساب بیورو ( نیب) کی جانب سے گرفتاری کے بعد نیب آفس منتقل کردیا گیا۔  اس موقع پر مشتعل کارکنوں نے حمزہ شہباز کی گاڑی بھی روکنے کی کوشش کی۔ لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر عدالتی احاطے کے اندر اور باہر موجود رہے۔

قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواست سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ آج ہونے والی سماعت میں آمدن سے زائد اثاثوں، مبینہ منی لانڈرنگ کیس اور رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت کی درخواست پر بحث ہوئی۔

اس موقع پر حمزہ شہباز وکلا کے ہمراہ لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ حمزہ شہباز کے وکیل سلمان بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا نیب قانون کے تحت انکوائری مکمل ہونے تک وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے جاسکتے، ابھی منی لانڈرنگ کیس کی انکوائری جاری ہے، حمزہ شہباز تفتیشی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

وکیل حمزہ شہباز نے کہا حمزہ شہباز کے بلا جواز وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، متعدد فیصلے بھی موجود ہیں کہ انکوئری کے دوران ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہوگا، عدالت مکمل انصاف کرے گی۔ نیب پراسکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری قانون کے تحت جاری کیے گئے، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے حمزہ شہباز کے منی لانڈرنگ کی نشاندہی کی۔

پراسکیوٹر نیب نے شہباز شریف کی فیملی کے اثاثوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کروائیں۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہا شہباز شریف فیملی کے اثاثے آمدن سے کہیں زیادہ ہے، منی لانڈرنگ کیس میں صرف حمزہ شہباز ہی نہیں ہے، اس کیس میں شہباز شریف، نصرت شہباز، سلمان شہباز بھی شامل ہیں۔ پراسکیوٹر نیب نے اپنے دلائل میں مزید کہا شہباز شریف کی فیملی کے اثاثوں مین اربوں روپے اضافہ ہوا، حمزہ شہباز آمدن سے زائد اثاثوں کے معاملہ پر ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔

نیب نے کہا 2018 میں حمزہ شہباز کے اثاثے 41 کروڑ تک سامنے آئے، وہ 38 کروڑ روپے کے اثاثے ثابت نہیں کرسکے، غیر قانونی طریقے سے پاکستان سے پیسے دبئی اور انگلینڈ بھجوائے گئے، 40 لوگ شہباز شریف فیملی کے ساتھ منی لانڈرنگ میں ملوث تھے، 2 منی ایکسچینجر کو پاکستان میں گرفتار کرلیا ہے۔ پراسکیوٹر نیب نے کہا پیسے بھیجنے والے 38 لوگ تسلیم نہیں کر رہے حالانکہ پیسے انہی کے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر کیے گئے، 18 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی، حمزہ شہباز بیرون سے بھجوائے گئے پیسوں کے ذرائع نہیں بتاسکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل تین جون کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رہنما حمزہ شہباز کی ضمانت میں توسیع کی درخواست منظور کی گئی تھی۔ حمزہ شہباز نے تین مقدمات میں عبوری ضمانت کرارکھی 

About The Author

Related posts